ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: ججوں کی تقرری میں تاخیر - کئی بار سفارش کے باوجود مرکزی حکومت کی طرف سے سفارش قبول نہ کئے جانے پر سپریم کورٹ گرم

بھٹکل: ججوں کی تقرری میں تاخیر - کئی بار سفارش کے باوجود مرکزی حکومت کی طرف سے سفارش قبول نہ کئے جانے پر سپریم کورٹ گرم

Sun, 13 Nov 2022 21:07:52    S.O. News Service

بھٹکل،13؍ نومبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کالیجیم کی طرف سے ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری کے لئے سفارش کیے جانے کے باوجود مرکزی حکومت کی طرف سے خالی اسامیوں کو پُر نہ کرنے  پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے رویہ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
    
خیال رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا : " ہائی کورٹ ججوں کی تقرری میں بڑی کوتاہی ہو رہی ہے ۔ اس کی وجہ سے عدلیہ کی آزادی پر حرف آ رہا ہے ۔ کالیجیم کی طرف سے متفقہ طور پر ہائی کورٹ جج کے لئے جس نام کی دوبارہ سفارش کی جاتی ہے، اس پر مرکزی حکومت کو تین چار ہفتوں کے اندر اس شخص کی تقرری کر دینی چاہیے۔" 
    
لیکن حکومت کی طرف سے اس پر عمل نہ کیے جانے  پر بنگلورو وکیلوں کی انجمن نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے یہ بات سامنے رکھی تھی کہ " مرکزی حکومت جان بوجھ  کر کالجیم کی سفارشات پر عمل نہیں کر رہی ہے اور ججوں کو ان کے منصب پر فائز نہیں کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کی اس کوتاہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہائی کورٹ جج کے لئے سفارش کیا گیا ایک شخص تقرری سے قبل اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔"
    
اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ایس کے کول اور جسٹس اے ایس اوکا نے مرکزی حکومت کی طرف سے کالجیم کی سفارشات کو نظر انداز کرنے اور اس پر عمل در آمد نہ کرتے ہوئے رکاوٹیں پیدا کرنے کے رویہ کو ناقابل قبول قرار دیا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کالجیم کی طرف سے ہائی کورٹ ججس کی تقرری کے لئے بھٹکل سے تعلق رکھنے سالے کرناٹک ہائی کورٹ کے معروف وکیل ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کی بھی دو مرتبہ سفارش کی گئی تھی، مگر مرکزی حکومت کی طرف سے ان کی بھی تقرری نیہں کی گئی۔


Share: